چنڈی گڑھ،15؍جون(ایس او نیوز؍ایجنسی) کورونا وبا نے دنیا کے ہر ملک کو پوری طرح ہلا کر رکھ دیا ہے- ہندوستان جو پہلے سے ہی اقتصادی دشواریوں سے دو چار تھا جس کی وجہ سے بے روز گاری کی شرح میں مستقل اضافہ ہو رہا تھا اس کے لئے کورونا وبا تباہی لے کرآئی ہے-
انگریزی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کے مطابق لدھیانہ کی رہنے والی رمپی کور ٹیچر کی نوکری کے امتحان کے لئے تیاری کر رہی تھی لیکن اب حالات ایسے ہیں کہ اس کو اپنے گھر کی مدد کے لئے کھیت میں کام کرنا پڑرہا ہے- رمپی نے ایم اے کیا ہوا ہے اور ٹیچر کی نوکری کے لئے لازمی ٹی ای ٹی (ٹیٹ) کا امتحان بھی پاس کیا ہوا ہے- کورونا کی وجہ سے حالات نے ایسی کروٹ بدلی کہ اب رمپی گھر والوں کے ساتھ اپنے کھیت میں روپائی کر رہی ہیں -10لوگوں کے ایک گروپ نے 50ایکڑ کے کھیت میں روپائی کے لئے 3200روپے فی ایکڑ کے حساب سے ٹھیکہ لیا ہے جس سے اس گروپ کو ایک لاکھ60 ہزار روپے ملیں گے اور رمپی کو16ہزار روپے- رمپی کے گھر کے اور لوگ بھی اس میں شامل ہیں -
رمپی کے بھائی کلدیپ کھوڈال بتاتے ہیں کہ وہ ایک پرائیویٹ کالج میں بطور کلر ک کام کرتے ہیں، والد رکشا چلاتے ہیں اور والدہ کی طبیعت خراب چل رہی ہے اب دھان کی روپائی کے لئے رمپی اکیلی فرد ہیں اس لئے مجبوری میں یہ کرنا پڑ رہا ہے-کھیتوں میں کام کر رہی رمپی کا کہنا ہے کہ”جب آپ کے پاس نوکری نہیں ہے اور کوئی بے روزگاری بھتہ ملتا نہیں تو ایسے میں آپ کیا کریں گے- روزی روٹی کے لئے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا- میری ڈگری مجھے نوکری نہیں دے رہی اس لئے ایسے کام کر کے ہی پیسہ کما سکتی ہوں -سنگرور کے بھنڈر گاؤں کی سندیپ کور کی کہانی بھی رمپی جیسی ہی ہے-سندیپ کور اس گاؤں میں ایک مل میں کام کر رہی تھیں لیکن کورونا کی وجہ سے وہاں کام بند ہو گیا ہے ایسے میں وہ بھی دھان کی روپائی میں لگی ہوئی ہیں - سندیپ تعلیم یافتہ ہیں اور انہوں نے بی اے کیا ہوا ہے-
پنجاب میں ایسی کہانیاں عام ہیں اور تعلیم یافتہ لڑکیاں کھیتوں پر کام کر کے اپنے گھر والوں کی مالی مدد کر رہی ہیں - مہاجر مزدوروں کے واپسی کے کوئی امکان نہیں ہیں اور روزگار کی شرحوں میں بہت اضافہ ہونے جا رہا ہے ایسے میں تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیاں جائیں تو جائیں کہاں -